نئی دہلی،8؍جنوری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)بابائے قوم مہاتما گاندھی کے قتل کی اب دوبارہ تحقیقات نہیں کی جائیں گی۔سپریم کورٹ کے حکم کے بعدتمام ضروری دستاویزات کی جانچ پڑتال کرنے والے وکیل امرندر سرن نے عدالت میں جانکاری دی ہے۔انہوں نے کہا کہ باپو کو قتل کرنے میں ناتھو رام گوڈسے کے علاوہ کسی کے وجود کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ جن4بلیٹ نظریے کی بات ہوتی ہے اس کابھی کوئی ثبوت نہیں۔بتادیں کہ پنکج فڈنیس کا نظریہ تھا کہ گاندھی کی موت چار گولیاں لگنے کی وجہ سے ہوئی تھی۔بتا دیں کہ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں سابق ایڈیشنل سالیسٹر جنرل اور سینئر وکیل امریندر سرن کو انصاف دوست مقرر کیا تھا۔اس درخواست میں گاندھی کے قتل میں ’’تین بلیٹ کی کہانی‘‘پر سوالیہ نشان لگانے کے ساتھ یہ سوال بھی اٹھایا گیا تھا کہ کیا ناتھورام گوڈسے کے علاوہ کسی دوسرے شخص نے چوتھی گولی بھی داغی تھی؟۔اس قتل میں عدالت نے 10فروری، 1 9 4 9کوگوڈسے اورآپٹے کوموت کی سزاسنائی تھی۔وہیں ونایک دامودر ساورکر کوثبوت کی کمی کے باعث شک کافائدہ مل گیاتھا۔سابقہ پنجاب ہائی کورٹ کی طرف سے 21جون، 1949کو گوڈسے اور آپٹے کی موت کی سزا کی تصدیق کے بعد دونوں کو 15نومبر، 1949کو انبالہ جیل میں پھانسی دے دی گئی تھی۔کیا مہاتما گاندھی کا کوئی دوسرا قاتل بھی تھا؟ ویسے پولیس تو اس کہانی پربھروسہ کرتی ہے کہ گاندھی پر تین گولیاں چلائی گئی تھیں، لیکن کیا چوتھی گولی بھی تھی جسے ناتھورام گوڈسے کے علاوہ کسی اور نے چلائی تھی؟۔ایسے کئی سوالات کو لے کر سپریم کورٹ میں دائرایک درخواست پر 6اکتوبر کوسماعت ہوئی تھی۔30جنوری 1948کو دہلی کے برلا ہاؤس میں مہاتما گاندھی کا قتل ہوا تھا، باپو کے قتل کی ایف آئی آر اسی دن یعنی 30جنوری کو دہلی کے تغلق روڈ تھانے میں درج کی گئی تھی۔ایف آئی آر اردو میں لکھی گئی تھی جس میں پورے واقعے کے بارے میں بتایا گیا تھا۔دہلی کے تغلق روڈ کے ریکارڈ روم میں آج بھی وہ ایف آئی آر سنبھال کر رکھی گئی ہے، ایف آئی آر کو باقاعدہ لیمنیشن کروا کر رکھا گیا ہے، اگر کبھی بھی باپو کے قتل کا معاملہ دوبارہ کھلتا ہے اور تحقیقات نئے سرے سے شروع ہوتی ہے تو اسی ایف آئی آر کی بنیاد پر تحقیقات شروع کی جائیں گی۔